17 اپریل 2010 - 19:30

امریکی وزارت جنگ کے ایک اہم افسر نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں چند نئے فوجی فوجی مراکز قائم کرنا چاہتا ہے امریکی وزارت جنگ کے اس اعلی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ تربیتی مراکز پاکستانی فوجیوں کے تربیتی مراحل کو تیز کرنے کےلئے قائم کئے جارہے ہیں ۔

امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ مراکز پاکستان کے شمالی مغربی علاقے میں قائم کئے جائیں گے۔امریکی وزارت جنگ کے اس افسر کابیان ایک ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں امریکی موجودگي بالخصوص زی اور بلیک واٹر کی سرگرمیوں پر سخت تنقید کی جارہی ہے ۔امریکی سرگرمیاں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ پاکستان کی وزارت داخلہ کونہ چاہتے ہوئے بھی امریکی شہریوں کے خلاف کچھ پابندیوں کااعلان کرنا پڑا ۔اسلام آباد میں کالے شیشے والی گاڑیوں میں مسلح امریکی فوجی اور سفارتکار یوں دندرناتے پھرتے ہیں کہ پاکستانی عوام کے لئے ان حرکات کو برداشت کرنا مشکل ہوگیا ہے ایسے وقت میں پاکستان میں مزيد تربیتی مراکز کاقیام جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے ۔ امریکی حکام کا یہ دعوی ہے کہ وہ پاکستانی فوج کی تربیت کے لئے یہ مراکز قائم کریں گے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان یا القاعدہ کے مقابلے کے لئے پاکستانی فوج کو کسی بیرونی فوج کی تربیت کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کی فوج کو دنیا کی چھٹی بڑی فوج سمجھا جاتا ہے اور وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہت آگے ہے یوں بھی پاکستانی فوج جس علاقے اور جن عناصر کے خلاف نبرد آزما ہے اس میں پاکستانی فوج کو کسی تربیت کی ضرورت نہیں ہے پاکستان فوج تو عرب ممالک سمیت کئی دوسرے ممالک کی افواج کو تربیت دے رہی ہے ۔امریکی فوج افغانستان میں توابھی تک طالبان اور القاعدہ کاخاطر خواہ مقابلہ نہیں کرسکی ہے وہ پاکستانی فوج کو کیا تربیت دے گی ۔علاقائی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ماضي میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پر بر صغیر پر قبضہ کیا گيا اور موجودہ دور میں امریکہ اپنی فوجی قوت کے بل بوتے پر وہی کام انجام دینا چاہتا ہے ۔امریکہ پاکستان میں تربیتی مراکز اور سیکورٹی ایجنسیوں کے بہانے اپنی فوجی موجودگي کو بڑھا کر نہ صرف پاکستان پر اپنا کنٹرول بڑھانا چاہتا ہے بلکہ پاکستان کے شمال مغربی صوبے میں اپنی فوجی موجودگي کو بڑھا کر چین ، روس اور وسطی ایشیا کی ریاستوں پر بھی نظر رکھنے کا خواہاں ہے ۔  آئیے سنتے ہیں پاکستان کے معروف تجزيہ نگار یحیی بن زکریا امریکہ کے اس اقدام پر کیا تبصرہ کرتے ہيں ۔  عزیز سامعین جیسا کہ آپ نے پاکستان کے معروف تجزیہ نگار یحیی بن زکریا کی زبانی سنا کہ امریکہ پاکستان میں اپنی فوجی موجودگي کو بڑھا کر افغانستان سمیت خطے کے دوسرے ممالک پر اپنا اثر و نفوذ بڑھانا چاہتا ہے لیکن پاکستانی عوام امریکہ کے ان اقدامات پر سخت نالاں ہے اور پاکستان میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو زیادہ دیر برداشت نہیں کریں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں امریکہ کے خلاف جو نفرت اس وقت موجود ہے تاریخ میں اتنی نفرت کبھی نہ تھی آج پاکستان کے ہر شعبہ ہای زندگي سے تعلق رکھنے والا فرد امریکہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے لیکن امریکہ نے جنرل ضياء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں روس اور طالبان کے خلاف جنگ کے نام پر پاکستان کے اندر اپنا اثر و نفوذ اتنابڑھا دیا ہے کہ پاکستانی عوام کے شدید دباؤ کے باوجود امریکہ کو پاکستانی سیاست سے جدا نہیں کیا جا سکتا امریکہ نے پاکستان میں اپنے فوجی تربیتی مراکز میں اضافے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے کہ امریکہ اور اسکی اتحادی افواج نے افغانستان کے علاقے ہلمند میں ایک بہت بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کردیا ہے ۔امریکی عہدیداروں کے مطابق ہلمند میں ہونے والی اس بڑی کاروائي میں اہم رول افغان فورسز کا ہوگا اور نیٹو اور امریکی افواج افغان فوجیوں کا ساتھ دیں گے ۔ ہلمند میں فوجی کاروائي کا ردعمل بھی ہوگا اور اسکا نشانہ امریکی فوجی بھی بنیں گے امریکہ نے اسی خطرے کے پیش نظر پاکستان کے شمالی مغربی علاقے میں تربیتی مراکز کےنام پر اپنے مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے تا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کیا جا سکے .